خیال مت شاہ آفریدی سے
گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے سپاہی اسرار آفریدی کو ان کے آبائی گاؤں بازگھڑھا کمرخیل میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی کے علاقے شیوا میں ایک خودکش حملے میں پاک فوج کے نوجوان سپاہی اسرار ولد حکم خان کمرخیل شہید ہو گئے۔ ان کی نماز جنازہ گزشتہ شب ان کے آبائی گاؤں بازگھڑھا کمرخیل میں ادا کی گئی، جس میں فوجی افسران، سیاسی رہنماؤں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنازے کے موقع پر باڑہ رائفلز کے جوانوں نے شہید کو سلامی دی، جبکہ فوجی افسران نے ان کی میت پر گل پاشی کی۔ بعد ازاں، سپاہی اسرار آفریدی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا
نماز جنازہ میں فوج کے اعلیٰ افسران، باڑہ رائفل 212 ونگ کے کرنل عطاء المحسن، وی سی 43 کے سربراہ عبدالمتین آفریدی کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما محب اللہ آفریدی، تاج محمد آفریدی، حاجی آمین، حاجی رفیق، پولیس اہلکاروں، شہید کے عزیز و اقارب اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ سپاہی اسرار آفریدی شمالی وزیرستان میرعلی میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، جہاں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے میں وہ شہید ہو گئے۔ تدفین کے موقع پر فوجی افسران نے شہید کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ فوجی افسران کا کہنا تھا کہ سپاہی اسرار ایک ایماندار، بہادر اور نڈر فوجی تھے، جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی کئی سخت معرکے لڑے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔
شہید اسرار آفریدی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایک خوش مزاج، خندہ پیشانی رکھنے والے اور ہنس مکھ نوجوان تھے، جنہیں سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک پر بھی کافی شہرت حاصل تھی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہید اسرار آفریدی اپنے ورثے میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑ گئے۔ فوجی حکام کی جانب سے ان کے والد کو شہادت کے اعتراف میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی پیش کیا گیا۔
اللہ ہمیں مزید ان پردیسی اور بے مقصد جنگوں سے نجات دے…
آمین ثم آمین!


