Sunday, March 2, 2025

خیال مت شاہ آفریدی  سے


گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے سپاہی اسرار آفریدی کو ان کے آبائی گاؤں بازگھڑھا کمرخیل میں سپرد خاک کر دیا گیا۔


اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی کے علاقے شیوا میں ایک خودکش حملے میں پاک فوج کے نوجوان سپاہی اسرار ولد حکم خان کمرخیل شہید ہو گئے۔ ان کی نماز جنازہ گزشتہ شب ان کے آبائی گاؤں بازگھڑھا کمرخیل میں ادا کی گئی، جس میں فوجی افسران، سیاسی رہنماؤں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنازے کے موقع پر باڑہ رائفلز کے جوانوں نے شہید کو سلامی دی، جبکہ فوجی افسران نے ان کی میت پر گل پاشی کی۔ بعد ازاں، سپاہی اسرار آفریدی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا

نماز جنازہ میں فوج کے اعلیٰ افسران، باڑہ رائفل 212 ونگ کے کرنل عطاء المحسن، وی سی 43 کے سربراہ عبدالمتین آفریدی کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما محب اللہ آفریدی، تاج محمد آفریدی، حاجی آمین، حاجی رفیق، پولیس اہلکاروں، شہید کے عزیز و اقارب اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ سپاہی اسرار آفریدی شمالی وزیرستان میرعلی میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، جہاں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے میں وہ شہید ہو گئے۔ تدفین کے موقع پر فوجی افسران نے شہید کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ فوجی افسران کا کہنا تھا کہ سپاہی اسرار ایک ایماندار، بہادر اور نڈر فوجی تھے، جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی کئی سخت معرکے لڑے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔

شہید اسرار آفریدی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایک خوش مزاج، خندہ پیشانی رکھنے والے اور ہنس مکھ نوجوان تھے، جنہیں سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک پر بھی کافی شہرت حاصل تھی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہید اسرار آفریدی اپنے ورثے میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑ گئے۔ فوجی حکام کی جانب سے ان کے والد کو شہادت کے اعتراف میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی پیش کیا گیا۔


اللہ ہمیں مزید ان پردیسی اور بے مقصد جنگوں سے نجات دے… 

آمین ثم آمین!


Wednesday, May 24, 2023

 خیبر کنٹریکٹرزایسوسی ایشن مرکزی کابینہ کے پہلے اجلاس کا پریس ریلیز 

خیبر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ ضلع خیبر میں تمام ترقیاتی محکمے چھوٹے ٹھیکیداروں کے ساتھ امتیازی سلوک بندکرکے تمام ٹینڈرز کو سنگل سٹیج سنگل اینولپ کے طریقہ کار کے مطابق لگا کر غریب اور بے روزگار ٹھیکیداروں کو کاروبار کا موقع فراہم کریں جبکہ ترقیاتی محکمے بلوں کی ادائیگی اور سیکورٹی ڈپازٹس کی ریلیزنگ میں تاخیری حربے استعمال نہ کریں،بصورت دیگر ملوث متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار خیبر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت خیال جان آفریدی کررہے تھے۔اجلاس میں جنرل سیکرٹری موسیٰ خان،سینئرنائب صدر حاجی محمدآمین،نائب صدر حاجی عبیداللہ ڈپٹی جنرل سیکرٹری انجینئر داؤد،فنانس سیکرٹری حاجی لال مرجان،ڈپٹی فنانس سیکرٹری انجینئر افتخار،پریس سیکرٹری خیال مت شاہ،صدر کے مشیر خاص سہیم خان،ایڈمن سیکرٹری حاجی یوسف،رابطہ سیکرٹری عیداکبر اورآفس سیکرٹری گل کند نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیاکہ تمام ترقیاتی محکموں میں عرصہ دراز سے تعینات اور تین سال سے زائد عرصہ اپنے پوسٹ پر مسلسل براجماں ہونے والے سب انجینئر سے لیکر ایس ڈی او اور اکاونٹ برانچ سے لیکر کلاس فور تک کے بدعنوان اہلکاروں کو نشاندہی کے بعد ان کے خلاف محکموں کے اعلیٰ افسران کو تحریری شکایتیں کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ترقیاتی محکموں کے تمام نوعیت کے ٹینڈرز کو کے سی اے زیر نگرانی کرانے اور ٹینڈر مافیا کے خلاف بھر پور طریقے سے ایسوسی ایشن کے چھوٹے ٹھیکیداروں کے باہمی اتحاد سے ان کی اجارہ داری کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جائے گا جبکہ یونین کی مکمل کوشش ہوگی کہ سنگل سٹییج سینگل اینولپ کے ٹینڈر لگائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گہ کہ کل بروز جمعرات تین ترقیاتی محکمہ جات کے ساتھ کابینہ ممبران تعارفی سیشن کے ساتھ ساتھ ضلع خیبر کے ٹھیکیداروں کو درپیش سنگین نوعیت کے دفتری مشکلات یعنی بلوں ادائیگی،سیکورٹی،ٹی ایس،محکمہ کمیشن اور دیگر اہم مسائل پر گفت و شنیدہوگی۔اجلاس میں کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ لوکل گورنمنٹ کے سابقہ ٹینڈر میں ضلع خیبر کے ٹھیکیداروں کے ساتھ ناروا رویے اور غیر قانونی طور پر کال ڈپازٹ روکنے پر ٹیکنیکل سٹاف کے خلاف کل ڈی جی لوکل گورنمنٹ کو احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا جس کے لئے متاثرہ ٹھیکیداروں کو کل لوکل گورنمنٹ کے ڈی جی آفس میں جمع ہونے کے ہدایات جاری کئے گئے اور عرصہ دراز سے لوکل گورنمنٹ کے ایک ٹینڈر میں پھسے ہوئے ٹھیکیداروں کا دیرینہ مسلہ حل کرنے کیلئے ہرممکن تگ ودو کرانے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔ اجلاس میں نئے کابینہ ممبران کو مبارکباد پیش کیا گیا جبکہ نئے ممبران نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ کے سی اے آئین کی پاسداری اور ٹھیکیداربرادری کے مسائل کے حل کیلئے منتخب کابینہ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور کے سی اے پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اجلاس کے دوران کابینہ عہدیداران نے کے سی اے کے نئے آئین پر دستخظی کرکے آئین کی پاسداری کا عہد کیا۔


Monday, January 23, 2023

سانحہ علم گودر کے اصل ہیروز کون ۔۔۔۔تحریر خیال مت شاہ آفریدی

 https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0n7mDBZEYhFEGtkLa6hbRtC7ugbb94PKJNjSCrtzmteKCdyBMZMmnbNtqQy3AWRiNl&id=100000817865305&mibextid=Nif5oz

Sunday, January 15, 2023

 باڑہ خیال مت شاہ آفریدی سے 

پشاور یونیورسٹی جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام باڑہ پریس کلب کے صحافیوں کیلئے دوروزہ تربیتی ورکشاپ کا پہلا مرحلہ احتتام پذیر ہو گیا۔تربیتی ورکشاپ سی آر اے ناتھ کی تعاون سے منعقدکیا گیا جبکہ تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد انضمام اور آئی ڈی پیز کی اپنے علاقوں میں  واپسی کے بعدباڑہ میں سماجی مسائل، دہشت گردی سے متاثرہ انفراسٹرکچرکی دوبارہ بحالی میں ریاستی اداروں کی کارکردگی، علاقے میں سماجی ہم آہنگی،قدرتی آفات اورریفامزکے حوالے سے مقامی صحافیوں کی پیشہ ورانہ رپورٹنگ کے بارے میں پشاور یونیورسٹی جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے پروفیسرز نے تفصیلی لکچر دی۔ جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر فیض اللہ جان،اسسٹنٹ پروفیسر عرفان اشرف،اسسٹنٹ پروفیسر علی عمران،اسسٹنٹ پروفیسر بخت زمان خان،میڈیا کے معروف ٹرینر اورنگزیب اور اسسٹنٹ پروفیسر اور پشاور یونیورسٹی کے میڈیا ترجمان نعمان خان نے تربیتی ورکشاپ میں شریک باڑہ پریس کلب کے صحافیوں کومختلف سیشن کے دوران پرنٹ میڈیا،الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیارپورٹنگ سمیت خبر نگاری اور سٹوری رائٹنگ کے گرسیکھائے۔ صحٖافیوں کو بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں قبائلی علاقوں میں پیشہ ئے صحافت اور صحافی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جبکہ اس خطے میں صرف یہی طبقہ رہ گیا ہے جس کی شناخت اور کردارسب کے سامنے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ صحافی معاشرے کی ایک آواز ہے اور ان کی سٹوریز کے ساتھ پوری دنیا منسلک ہے لیکن موجودہ حالات میں یعنی فاٹا انضمام کے بعد اب مقامی صحافیوں کو اپنی لائف سٹائل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اوراس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا اور ان سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات سے اپنے آپ کو منسلک کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ورکشاپ کے موقع پر ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر فیض اللہ جان نے کہا کہ فاٹا سے ایف سی آر کے خاتمے کے بعد صحافیوں کے اوپر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اب ان کو ایک آذاد ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آذادی کے ساتھ نبھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داریاں انہیں ریاست کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ عوام کے ترجمان ہے اور یہ سب کچھ اپنی کریٹیبیلٹی کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی کو اپنے پیشے اور کردار کا انتہائی خیال رکھنا ہے اور ایک خبر تب تک نہیں دینا چاہئے جب تک وہ کلیئر نہ ہو،صحافی کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ادارے یا چینل کی دباؤ سے آزاد ہو۔ انہوں نے کہا کہ کارکن صحافیوں کو آپس میں اندرسٹینڈنگ بہت ضروری امر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ان خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جس میں اعداد و شمار ہو،جس میں عوام کی اپنے علاقے کی مسائل ہواس لئے کارکن صحافی کو اپنے سوشل اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔دوروزہ تربیتی ورکشاپ کے آخر میں اسسٹنٹ پروفیسر اور پشاور یونیورسٹی کے میڈیا ترجمان نعمان خان نے  اپنے لکچر میں کہا کہ آج کل کے صحافت میں ڈیجیٹل ٹکنالوجی کا بہت بڑا کردار رہا ہے،انہوں نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے مختلف سیکٹرزہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے بارے دلچسپ معلومات فراہم کئے۔پرنٹ میڈیا،ریڈیو،سائبر میڈیا،ڈیٹا جرنلزم،کمپیوٹر اسسٹنٹ رپورٹنگ،ایم ایس ورڈ،بلاگنگ،،او بی ایس اور ڈیٹا سکیورٹی پر تٖفصیلی لکچر دی جبکہ ورکشاپ کے آخری سیشن میں  صحافیوں کو پشاور یونیورسٹی میں قائم کیمپس ریڈیو ٹرانسمیشن کی اپریٹنگ سسٹم کا بھی وزٹ کرائی گئی اور اس موقع پر گروپ ڈسکشن اور ریڈیو پرفارمنس کے ٹیسٹ لئے گئے۔



Thursday, January 20, 2011