Monday, January 23, 2023

سانحہ علم گودر کے اصل ہیروز کون ۔۔۔۔تحریر خیال مت شاہ آفریدی

 https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0n7mDBZEYhFEGtkLa6hbRtC7ugbb94PKJNjSCrtzmteKCdyBMZMmnbNtqQy3AWRiNl&id=100000817865305&mibextid=Nif5oz

Sunday, January 15, 2023

 باڑہ خیال مت شاہ آفریدی سے 

پشاور یونیورسٹی جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام باڑہ پریس کلب کے صحافیوں کیلئے دوروزہ تربیتی ورکشاپ کا پہلا مرحلہ احتتام پذیر ہو گیا۔تربیتی ورکشاپ سی آر اے ناتھ کی تعاون سے منعقدکیا گیا جبکہ تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد انضمام اور آئی ڈی پیز کی اپنے علاقوں میں  واپسی کے بعدباڑہ میں سماجی مسائل، دہشت گردی سے متاثرہ انفراسٹرکچرکی دوبارہ بحالی میں ریاستی اداروں کی کارکردگی، علاقے میں سماجی ہم آہنگی،قدرتی آفات اورریفامزکے حوالے سے مقامی صحافیوں کی پیشہ ورانہ رپورٹنگ کے بارے میں پشاور یونیورسٹی جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے پروفیسرز نے تفصیلی لکچر دی۔ جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر فیض اللہ جان،اسسٹنٹ پروفیسر عرفان اشرف،اسسٹنٹ پروفیسر علی عمران،اسسٹنٹ پروفیسر بخت زمان خان،میڈیا کے معروف ٹرینر اورنگزیب اور اسسٹنٹ پروفیسر اور پشاور یونیورسٹی کے میڈیا ترجمان نعمان خان نے تربیتی ورکشاپ میں شریک باڑہ پریس کلب کے صحافیوں کومختلف سیشن کے دوران پرنٹ میڈیا،الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیارپورٹنگ سمیت خبر نگاری اور سٹوری رائٹنگ کے گرسیکھائے۔ صحٖافیوں کو بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں قبائلی علاقوں میں پیشہ ئے صحافت اور صحافی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جبکہ اس خطے میں صرف یہی طبقہ رہ گیا ہے جس کی شناخت اور کردارسب کے سامنے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ صحافی معاشرے کی ایک آواز ہے اور ان کی سٹوریز کے ساتھ پوری دنیا منسلک ہے لیکن موجودہ حالات میں یعنی فاٹا انضمام کے بعد اب مقامی صحافیوں کو اپنی لائف سٹائل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اوراس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا اور ان سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات سے اپنے آپ کو منسلک کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ورکشاپ کے موقع پر ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر فیض اللہ جان نے کہا کہ فاٹا سے ایف سی آر کے خاتمے کے بعد صحافیوں کے اوپر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اب ان کو ایک آذاد ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آذادی کے ساتھ نبھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داریاں انہیں ریاست کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ عوام کے ترجمان ہے اور یہ سب کچھ اپنی کریٹیبیلٹی کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی کو اپنے پیشے اور کردار کا انتہائی خیال رکھنا ہے اور ایک خبر تب تک نہیں دینا چاہئے جب تک وہ کلیئر نہ ہو،صحافی کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ادارے یا چینل کی دباؤ سے آزاد ہو۔ انہوں نے کہا کہ کارکن صحافیوں کو آپس میں اندرسٹینڈنگ بہت ضروری امر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ان خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جس میں اعداد و شمار ہو،جس میں عوام کی اپنے علاقے کی مسائل ہواس لئے کارکن صحافی کو اپنے سوشل اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔دوروزہ تربیتی ورکشاپ کے آخر میں اسسٹنٹ پروفیسر اور پشاور یونیورسٹی کے میڈیا ترجمان نعمان خان نے  اپنے لکچر میں کہا کہ آج کل کے صحافت میں ڈیجیٹل ٹکنالوجی کا بہت بڑا کردار رہا ہے،انہوں نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے مختلف سیکٹرزہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے بارے دلچسپ معلومات فراہم کئے۔پرنٹ میڈیا،ریڈیو،سائبر میڈیا،ڈیٹا جرنلزم،کمپیوٹر اسسٹنٹ رپورٹنگ،ایم ایس ورڈ،بلاگنگ،،او بی ایس اور ڈیٹا سکیورٹی پر تٖفصیلی لکچر دی جبکہ ورکشاپ کے آخری سیشن میں  صحافیوں کو پشاور یونیورسٹی میں قائم کیمپس ریڈیو ٹرانسمیشن کی اپریٹنگ سسٹم کا بھی وزٹ کرائی گئی اور اس موقع پر گروپ ڈسکشن اور ریڈیو پرفارمنس کے ٹیسٹ لئے گئے۔